G. M. Syed.

جی ايم سيد : سيدازم کی سياست کا کلاسيکل مثال ہے

جی ايم سيد (1904-1995) پاکستان کے جنوبی صوبہ سندہ سے تعلق رکھتا تھا. تقريباً 92 سال طويل عمر پائی. جی ايم سيد کی سياست سيدواد کا کلاسيکل مثال ہے. اس کے سياسی سفر کی شروعات درگاہ اور دستاربندی سے ہوئی. بٹوارے کے دوران اس نے ہندو مسلم تضاد کو تيز کيا اور خود کو مسلمانوں کا نجات دہندہ اور نمائندہ ثابت کرنے کی دعویٰ کی. چھوٹی علائقائی تنظيم سے منسلک تھا مگر سياسی وابستگی مسلم ليگ سے جوڑ لی جو اس وقت سادات، وڈيروں، خانبہادروں، نوابوں، طاقتور قبائلی سرداروں (ديگر الفاظ ميں مسلم اشرافيہ) کی نمائندہ تنظيم تھی جبکہ کانگريس ہندو اشرافيہ کی.


سيد نے مسلم ليگ کے پليٹ فارم سے سندھ کے سادات طبقے کی ترجمانی کی اور سندھ ميں ايک “غير سيد” الھبخش سومرو کی حکومت بھی ختم کروائی انہیں محسوس ہوا کہ کہیں مڈل کلاسی مسلم قيادت سندھ کی سياست ميں اپنی جگہ بنا گئی تو سيد شاہی کو خطرہ لاحق ہو گا اس ليے اس نے الھبخش سومرو (جو سندھ کا پريميئر تھا، موجودہ وزيراعليٰ/مکھيہ منتری کے برابر) کو ہٹا ديا (بعد ميں وہ ايک درگاہ کے متولے کے ہاتھوں مارا بھی گيا).


سيد نے مسجد منزل گاہ تحريک چلائی جس کے نتيجے ميں ہندو مسلم فساد ہوئے. ہندؤں (اپر کاسٹس) کی بڑی تعداد کو اس کے نتيجے ميں سندھ چھوڑنا پڑا.
سيد نے ايک قرارداد پاس کروائی جس ميں مسلمانوں کے ليے الگ ملک کی بات کی گئی تھی.
سيد کا خيال تھا کہ نئے وجود ميں آنے والے ملک ميں سيد شاہی کا سکہ چلے گا مگر جناح ايک متوازن اور روشن خيال مسلم رہنما تھا جس نے پيروں، جاگيرداروں، نوابوں کے راجواڑوں کو برقرار رکھنے کے بجائے ملک کو نئی راہوں پر چلانے کی کوشش کی جبکہ سيد نے اپنے سادات اشرافيہ کے ليے ٹکٹ مانگے جو جناح نے دينے سے انکار کيا.
جناح سے سادات کو ٹکٹ نہ ملنے پر سيد صاح “باغی” ہوا اور صوفی سيد شاعر کے کلام کو “ويد” کا درجہ دے کر “قومپرست” سياست کے نئے رنگ ميں سامنے آيا. سندھ ميں راجا داہر کو ہیرو قرار ديا گيا جھوٹے تاريخی مفروضے پھيلائے گئے. صوفی ازم (سيد واد) کو پروموٹ کيا گيا اور 1973ع ميں بلآخر علحيدگی کا نعرہ بھی لگايا.
يہ ايک طويل سياسی سفر تھا کميونل سياست سے قومپرستی تلک مگر ايک ہی مطابقت تھی وہ يہ کہ سيد کی متضاد افکار والے دونوں ادوار ميں اشرافيہ کے مفادات کو ترجيح دی گئی.


مرحوم و مغفور نے جديد قومپرستی کا نعرہ تو لگايا مگر کبھی بھول کر بھی پسماندہ طبقے کے مسلمانوں اور دلتوں (سندھ ميں 12 سے 15 فيصد دلت آبادی بھی ہے) کے مسائل کے حل کے ليے کوئی پروگرام نہیں ديا. مذہبی سياست سے لے کر قومپرستانہ سياست تلک ترجيح صرف اشرافيہ ہی رہی. دونوں مختلف و متضاد افکار ميں صرف جذباتی تڑکہ لگا گر حقائق سے پہلو تہی کی گئی.
سيد صاحب کے سامنے جب اشرافيہ کے مخالف پسماندہ طبقات کا سوال آتا تو اس ميں انہیں کبھی “امت کو بانٹنے کی سازش” نظر آتی تھی تو کبھی آخری ايام والی سياست ميں “قومی وحدت کے خلاف سازش” سمجھتا تھا.
اس سے ثابت ہوا کہ اشرافيہ کی قيادت قومی ہو يا مذہبی ان کے پاس اولين ترجيح ہميشہ اپنے اشرافيہ کا تسلط برقرار رکھنا ہوتی ہے. اس اشرافيہ کی سياست، تاريخ اور ادب ہميشہ پسماندہ مخالف اور جھوٹ کا پلندہ ہوتا ہے.

مضمون نگار: گنپت رائے

A doctor by profession. Voluntary social services, translation and writing are my other inclinations.

Leave a reply:

Your email address will not be published.