अली हुसैन आसिम बिहारी

مجاہد آزادی اور پہلی پسماندہ تحریک کے بانی: مولانا علی حسین عاصم بہاری

پیدائش: ١٥ اپریل ١٨٩٠
انتقال: ٦ دسمبر ١٩٥٣

مولانا علی حسین عاصم بہاری محلہ خاص گنج، بہار شریف، ضلع نالندہ ، بہار، میں ایک غریب دیندار پسماندہ گھرانہ میں پیدا ہوئے تھے۔ سال ۱۹۰٦ ء میں ١٦ سال کی عمر میں، کولکتہ کے اوشا کمپنی میں اپنا کیریئر شروع کیا۔ کام کے ساتھ مطالعہ بھی جاری رہا۔ متعدد تحریکوں میں سرگرم رہے۔ پابندی اور بچارگی والی نوکری چھوڑ دیا ،گزر بسر کے لئے بیڑی بنانے کا کام شروع کیا۔ اپنے بیڑی کارکن دوستوں کی ایک ٹیم تیار کی، جن کے ساتھ قوم اور معاشرے پر مضامین کو سننا اور بات چیت کرنا روزانہ کا معمول تھا-
١۹۰۸-۰۹ء میں، مولانا حاجی عبدالجبار شیخ پوروی نے پسماندہ تنظیم بنانے کی کوشش کی جو کامیاب نہ ہو سکی۔ آپ کو اس بات کا بہت صدمہ تھا.
١۹١١ء میں، ’تاریخ منوال و اہلہ‘ ، جو بنکروں کی تاریخ سے متعلق ہے، پڑھنے کے بعد، خود کو پوری طرح سے جدوجہد کے لئے تیار کرلیا۔
٢٢ سال کی عمر میں، تعلیم بالغان کی تربیت کے لئے ایک پانچ سالہ (١۹١٢-١۹١۷)منصوبہ شروع کیا۔
اس دوران جب بھی اپنے وطن بہار شریف جاتے تو وہاں بھی چھوٹی چھوٹی میٹنگ منعقد کرکے لوگوں میں بیداری پیدا کرتے رہے۔
١۹١٤ء میں، جب آپ صرف ٢٤ سال کی عمر کے تھے، آپ اپنے وطن محلہ خاص گنج، بہار شریف، ضلع نالندہ میں بزم ادب نام سے ایک ادارہ قائم کیا۔ جس کے تحت ایک لائبریری بھی شروع کی۔
١۹١۸ء کے دوران، کولکتہ میں ’دارالمذاکرہ‘ کے نام سے ایک مطالعہ مرکز قائم کیا۔ جہاں مزدور پیشہ اور دیگر لوگ شام کو اکٹھا ہوکر پڑھتے لکھتے اور حالات حاضرہ پر مذاکرہ کرتے۔ اس میں کبھی کبھی پوری رات گزر جاتی تھی.
١۹١۹ء کے دوران جب جلیان والا باغ قتل عام کے بعد، لالہ لاجپت رائے، مولانا آزاد وغیرہ رہنماؤں کو گرفتار کرلیا گیا تھا، پھر ان رہنماؤں کی رہائی کے لئے احتجاجی خطوط مہم (پوسٹل پروٹسٹ) ، جس میں ہر ضلع، شہر، گاؤں، دیہات سے قریب ڈیڑھ لاکھ خطوط اور ٹیلیگرام وائسرائے ہند اور ملکہ وکٹوریا کو بھیجے گئے، آخرکار مہم کامیاب ہوئی، اور تمام مجاہدین آزادی جیل سے باہر آگئے۔
١۹٢۰ ء میں تانتی باغ، کولکتہ میں ’جمعتہ المومنین‘ تنظیم قائم کی جس کا پہلا اجلاس١۰ مارچ ١۹٢۰ ءمیں منعقد ہوا جس میں مولانا آزاد نے بھی خطاب کیا.
اپریل، ١۹٢١ ء میں دیواری اخبار ’المومن‘ کی رسم شروع کیا، جس میں بڑے کاغذ پر لکھ کر دیوار پر چپکا دیتے تھے۔ تاکہ زیادہ لوگ پڑھ سکیں۔ جو بہت مشہور ہوگیا۔
١۰ دسمبر، ١۹٢١ء کو، تانتی باغ کولکتہ میں ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں مہاتما گاندھی، مولانا جوہر، مولانا آزاد وغیرہ شامل تھے۔ اس جلسے میں تقریباً ٢۰ ہزار افراد نے شرکت کی۔ گاندھی جی نے کانگریس پارٹی کی بعض شرائط کے ساتھ تنظیم کو ایک لاکھ روپے کی رقم دینے کی تجویز پیش کی۔ لیکن عاصم بہاری نے، تحریک کے آغاز میں ہی، تنظیم کو کسی قسم کی سیاسی پابندی اور سپردگی سے دور رکھنا زیادہ مناسب سمجھا۔ اور تجویز قبول کرنے سے انکار کردیا۔ جسکی تحریک کو بہت ضرورت تہی.
١۹٢٢ء کے آغاز میں تحریک کو قومی سطح کی شکل دینے کے ارادے کے ساتھ، پورے بھارت کے دیہاتوں، قصبوں اور شہروں کے دورے پر نکل پڑے۔ اس کی شروعات بہار سے کی۔
قریب چھ ماہ کے مسلسل دوروں کے بعد، ۳,٤ جون، ١۹٢٢ء کو بہار شریف میں ایک ریاستی سطح کا اجلاس منعقد کیا گیا۔ اس اجلاس کے خرچے کے لئے جب چندے کا انتظام نہیں ہو پا رہا تھا اور اجلاس کی تاریخ قریب آتی جارہی تھی، ایسی صورت میں مولانا نے اپنی ماں سے اپنے چھوٹے بھائی محمود حسن کی شادی کے لئے جوڑے گئے روپے اور زیورات کو یہ کہہ کر مانگ لیا کہ ان شا اللہ شادی سے قبل چندے کی رقم اکٹھا ہوجائے گی، روپے اور زیور کا پھر انتظام ہوجائے گا۔
لیکن افسوس سماج کی حالت پرکہ ہزار سر مارنے کے بعد بہی، شادی کے دن تک کوئی خاطر خواہ انتظام نہیں ہوسکا، آخرکار انتہائی پشیمانی کے عالم میں شادی سے پہلے خاموشی کے ساتھ گھرسے نکل گئے، ماں نے بلاوا بھی بھیجا, لیکن شادی میں حاضر ہونے
کی ہمت نہ کرسکے۔

رضاء مولا پہ ہوکے راضی، میں نے اپنی ہستی کو کھوچکا ہوں
اب اس کی مرضی ہی اپنی مرضی، جو چاہے پرور دگار ہوگا

اس شرمندگی اور ذلت کے باوجود انقلاب کے جنون میں کوئی کمی نہیں آئی۔
١۹٢۳ء سے دیواری اخبار ایک رسالہ ’المومن‘ کی شکل میں شائع ہونے لگا۔
۹ جولائی، ١۹٢۳ء کو، مدرسہ معین الاسلام، سوہ ڈیہہ، بہار شریف، ضلع نالندہ، بہار میں تنظیم ’جمعیة المومن‘ کا ایک مقامی اجلاس منعقد کیا گیا۔ عین اسی روز آپ کے بیٹے قمرالدین جن کی عمر صرف ٦ ماہ اور ١۹ دن تھی، ان کا انتقال ہوگیا۔ لیکن سماج کو مین اسٹریم میں لانے کا جذبہ کا یہ عالم تھا کہ اپنے لخت جگر کی میت کو چھوڑکر مقررہ وقت پر اجلاس میں پہنچ کر تقریباً ایک گھنٹہ تک معاشرے کی حالت پر پر اثر تقریر کی، جس سے لوگوں میں بیداری کی لہر دوڑ گئی۔
ان مسلسل اور کٹہین دوروں میں، آپ کو بہت سے مسائل اور مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا, کئی کئی وقت بھوکا بھی رہنا پڑا۔ اسی دوران گھر میں بیٹی بارکہ کی ولادت بھی ہوئی، لیکن پورا خاندان قرض میں ڈوبا ہوا تھا، یہاں تک کہ فاقوں کی نوبت آگئی۔
قریب اسی زمانہ میں پٹنہ میں آریہ سماجیوں نے مناظرہ میں علمائے کرام کو پچھاڑ رکھا تھا، اور کسی سے ان کے سوالوں کا جواب نہیں بن پا رہا تھا۔ جب مولانا کو اس کی خبر ہوئی تو آپ نے ایک دوست سے کرایہ کے لئے قرض لیا اور راستہ میں کھانے کے لئے مکئی کا بھوجا چبینا تھیلے میں ڈال کر، پٹنہ پہنچ گئے۔ وہاں انہوں نے اپنی دلیلوں سے آریہ سماجیوں کو ایسی شکست دی کہ انھیں بھاگنا پڑا۔
اپنی تمام تر پریشانیوں، فکروں اور لگاتار دوروں کے باوجود خطوط اور روز نامچہ لکھنے کے علاوہ، اخبارات، رسالوں اور کتابوں کا مطالعہ کبھی نہیں چھوڑا۔ یہ مطالعہ محض مطالعہ یا صرف سماجی یا سیاسی سرگرمیوں کی معلومات تک محدود نہیں تھا، بلکہ سائنس، ادب اور تاریخی حقائق کی تحقیقات اور ان کی جڑوں تک پہنچنا چاہتے تھے۔ اس معاملے میں اس وقت کے مشہور اخبارات اور میگزین کے ایڈیٹروں کو خطوط لکھنے میں ذرا بھی تکلف نہیں برتتے تھے۔
اگست، ١۹٢٤ء میں کچھ منتخب رضاکاروں کی ٹھوس تربیت کے لئے ’مجلس میثاق‘ نامی ایک کور کمیٹی کی بنیاد ڈالی۔
٦ جولائی، ١۹٢۵ کو ’مجلس میثاق‘ نے ’الاکرام‘ نام کا ایک رسالہ کی ا شاعت شروع کی۔ تاکہ تحریک کو مزید مضبوط کیا جاسکے۔
١۹٢٦ ء میں ’دار التربیت‘ نام سے ایک تعلیمی ادارہ اور لائبری کا قیام عمل میں لایا۔ بنکری کے کام کو منظم اور مضبوط کرنے کے لئے اور حکومت ہند کے ادارہ کوآپریٹو سوسائٹی سے بھر پور تعاون حاصل کرنے کے لئے ٢٦ جولائی، ١۹٢۷ء کو ’بہار ویورس ایسوسی ایشن‘ قائم کی۔ جس کی شاخیں کولکتہ سمیت ملک کے دیگر شہروں میں بھی قائم کیں۔
١۹٢۷ ء میں بہار کو منظم کرنے کے بعد، عاصم بہاری نے یوپی کا رخ کیا۔ آپ نے گورکھپور، بنارس، الہ آباد، مراد آباد، لکھیم پور-کھیری اور دیگر اضلاع کا طوفانی دورہ کیا۔ یو پی کے بعد دہلی، پنجاب کے علاقے میں بھی تنظیم کو قائم کیا۔
١۸ اپریل، ١۹٢۸ کو کولکتہ میں اولین عظیم الشان کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس میں ہزاروں لوگ شامل ہوئے۔
مارچ ١۹٢۹ء میں، دوسرا کل ہند اجلاس الہ آباد میں منعقد ہوا تھا، تیسرا اکتوبر ١۹۳١ء کو دہلی میں، چوتھا لاہور اور پانچویں کانفرنس نومبر ١۹۳٢ء کے دوران گیا میں منعقد ہوئی۔ گیا کی کانفرنس میں تنظیم کا خواتین شعبہ بھی وجود میں آگیا. اور نوجوانوں کے لئے ’مومن نوجوان کانفرنس‘ بھی قائم کی گئی۔ اس کے ساتھ ہی ’مومن اسکاوٹ‘ بھی قدم تال کر رہا تھا۔ کانپور، گورکھپبور، دہلی، ناگ پور اور پٹنہ میں ریاستی کانفرنسوں کا اہتمام کیا جاتا رہا۔ اس طرح، ممبئی، ناگپور، حیدرآباد، چنئی اور یہاں تک کہ لنکا اور برما میں بھی تنظیم قائم ہوگئی۔ اور جمعیة المومنین (مومن کانفرنس) کل ہند سطح سے بلند ہوکر ایک بین الاقوامی تنظیم بن گئی۔
١۹۳۸ کے دوران ملک اور بیرون ملک میں تنظیم کی تقریباً ٢۰۰۰ شاخیں قائم ہوچکی تھیں۔ کانپور میں ایک ہفتہ وار میگزین ’مومن گزٹ‘ کی اشاعت بھی شروع ہوگئی۔ ہمیشہ اپنے آپ کو تنظیم میں پیچھے رکھتے اور دوسروں کو آگے بڑھاتے، خود کو کبھی بھی تنظیم کا صدر نہیں بنایا، لیکن لوگوں کی بہت اصرار پر، انہوں نے خود کو صرف جنرل سیکرٹری تک محدود رکھا۔
جب تنظیم کا کام بہت زیادہ بڑھ گیا، اور مولانا کو اپنی روزی روٹی اور گھر پریوار کی کفالت کے لئے محنت مزدوری کا موقع بالکل نہیں رہا تو ایسی صورت میں تنظیم نے ایک بہت ہی معمولی ماہانہ رقم طے کی۔ لیکن افسوس کہ وہ بھی کبھی وقت پر اور پوری نہیں ملی۔
جہاں کہیں بھی مومن کانفرنس کی شاخ کھولی جاتی تھی، وہاں چھوٹی-چھوٹی میٹنگوں کا انعقاد کیا جاتا رہتا۔ اس کے ساتھ ساتھ تعلیم اور روزگار کی مشاورتی مراکز ’دارالتربیت‘ اور لائبریری قائم کیے گئے۔ مولانا کی شروع سے یہ کوشش رہی تھی کہ انصاری برادری کے علاوہ دیگر پسماندہ برادریوں کو بھی باخبر، فعال اور منظم کیا جائے۔ اس کے علاوہ وہ ہر کانفرنس میں، دوسرے پسماندہ برادری کے لوگوں، رہنماؤں اور تنظیموں کو شریک کرتے تھے، مومن گزٹ میں ان کے خیالات کی اشاعت کو بھی برابر جگہ دی جاتی رہی۔ جیسا کہ انھوں نے ١٦ نومبر ١۹۳۰ء کو تمام پسماندہ برادریوں کی ایک مشترکہ سیاسی جماعت ’مسلم لیبر فیڈریشن‘ بنانے کی تجویز اس شرط کے ساتھ پیش کی کہ اصل سماجی تنظیم کی تحریک متاثر نہ ہو۔ ١۷ اکتوبر، ١۹۳١ کو اس وقت کے تمام پسماندہ برادریوں کی تنظیموں پر مشتمل ایک مشترکہ تنظیم ’بورڈ آف مسلم وکیشنل اینڈ انڈسٹری کلاسز‘ قائم کیا اور عام اتفاق رائے سے اس کے سرپرست بناے گئے۔
اسی دوران منجھلے بھائی کے انتہائی بیمار ہونے کی خبر ملی کہ,’جلدی آجائیے, آج کل کے مہمان ہیں, لیکن وہ مسلسل اور لگاتار دوروں کے سبب گھر نہیں جا سکے، یہاں تک کہ ان کے سگے بھائی کا انتقال بھی ہوگیا، بھائی سے آخری ملاقات بھی نہیں ہوسکی۔ ١۹۳۵-۳٦ کے دوران حکومت کے انتخابات میں مومن کانفرنس کے بھی امیدوار پورے ملک سے اچھی تعداد میں جیت کر آئے۔ نتیجے کے طور پر، بڑے بڑے لوگوں کو پسماندہ تحریک کی طاقت کا احساس ہوا. یہیں سے تحریک کی مخالفت شروع ہوگئی۔ پہلے سے ہی، مین اسٹریم کی سیاست میں سرگرم اشراف نے مومن کانفرنس اور اس کے رہنماؤں کے خلاف مختلف الزامات، مذہبی فتاوی، مضامین، اخبارات کے ذریعہ بدنام کرنا شروع کردیا۔ یہاں تک کہ بنکر برادری کی کردار کشی پر مشتمل ’جولاہا نامہ‘ (قاضی تلمز حسین گورکھپوری) اور ‘فتنہ جولاہا’ (حامد حسین صدیقی الہ آبادی) بھی شائع کیا گیا۔ کانپور میں انتخابی مہم کے دوران، ایک پسماندہ سرگرم کارکن عبد اللہ کا قتل بھی ہو گیا۔
یوں تو عام طور پر، مولانا کی تقریریں تقریباً دو سے تین گھنٹے پر مشتمل ہوتی تھیں۔ لیکن ١۳ ستمبر ١۹۳۸ء کو قنوج میں پانچ گھنٹے کی تقریر، اور ٢۵ اکتوبر ١۹۳٤ء کولکتہ میں پوری رات کی گئی تقریر انسانی تاریخ کا بے مثال ریکارڈ ہے۔ مولانا نے ’بھارت چھوڑو‘ تحریک میں بھی ایک فعال کردار ادا کیا۔
سال ١۹٤۰ء میں آپ نے ملک کی تقسیم کے خلاف دہلی میں ایک احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں قریب چالیس ہزار کی تعداد میں پسماماندہ موجود تھے۔
١۹٤٦ء کے انتخابات میں جمعیةالمومن (مومن کانفرنس) کے امیدواروں کو بھی کامیابی ملی, بعض امیدواروں نے تو مسلم لیگ کے خلاف فتح درج کروائی۔
١۹٤۷ء میں ملک کی تقسیم کے بعد، پسماندہ معاشرے کو پھر سے بحال کرنے میں متحرک ہوگئے۔ مومن گزٹ کو الہ آباد اور بہار شریف سے دوبارہ شائع کرنا یقینی بنایا۔
مولانا کی گرتی ہوئی صحت نے ان کی انتھک محنت، اور دورں کو متاثر کرنا شروع کردیا۔ لیکن آپ حضرت ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے سنت کو زندہ کرنے کے لئے پرعزم تھے۔ جب آپ الہ آباد کے دورے پر پہنچے، تو جسم میں ایک قدم بھی چلنے کی طاقت نہیں تھی۔ ایسی حالت میں بھی،صوبہ یو۰ پی۰ جمعیة المومنین کی کانفرنس کی تیاریوں میں مصروف رہے، اور لوگوں کو ہدایتیں دیتے رہے۔
لیکن اللہ کو آپ سے جتنا کام لینا تھا، لے چکا تھا، ۵ دسمبر کے شام میں اچانک دل کا دورہ پڑا۔ اور سانس لینے میں تکلیف ہونے لگی۔ دل میں شدید درد اور بےچینی تھی۔ چہرہ پسینے سے تربتر ہوگیا تھا، بیہوش ہوگئے، رات ٢ بجے کے آس پاس خود کو اپنے بیٹے ہارون عاصم کی گود میں پایا، اپنے سر کو زمین پر رکھنے کے لئے کہا، تاکہ وہ اللہ کے حضور میں سجدہ کرسکیں۔ اور اپنے گناہوں کی معافی مانگ سکیں۔ اور اسی حالت میں، ٦ دسمبر ١۹۵۳ اتوار کے دن حاجی قمرالدین کے مکان، اٹالہ، الہ آباد پر داعی اجل کو لبیک کہہ دیا۔
اپنے چالیس سالہ سرگرم اور فعال زندگی میں، مولانا نے اپنے لئے کچھ نہیں کیا اور ایسا کرنے کے لیے موقع بھی کہاں تھا؟ لیکن اگر وہ چاہتے، تو اس حالت میں بھی اپنے اور اپنے گھر پریوار کے گزر بسر کے لئے معقول ذرائع میسر کرسکتے تھے، لیکن اس طرف آپ نے کبھی توجہ ہی نہیں دی۔ مولانا زندگی بھر دوسرے گھروں میں چراغ جلانے کی کوشش میں سرگرداں رہے۔ اور اپنے گھر کو ایک چھوٹے سے چراغ سے بھی روشن نہ کر سکے۔ عاصم بہاری ہمیشہ کے لئے جدا ہوگئے، انھوں نے خود موت کی چادر اوڑھ لی، لیکن سماج کو زندہ و جاوداں کرگئے۔ وہ خود ملک عدم روانہ ہوگئے، لیکن معاشرے کو بیدار کرگئے۔ وہ ایسی گہری نیند سوئے ہیں کہ پھر کبھی بیدار نہ ہوں گے، لیکن سماج کو انھوں نے ایسا بیدار کیا ہے کہ اسے کبھی نیند نہ آسکے گی۔

اظہار تشکر: میں پروفیسر احمد سجاد کا شکریہ ادا کرتا ہوں جن سے گاہے بگاہے فون کے ذریعہ اور بالمشافہ ملاقات اور ان کے ذریعہ تحریر کردہ عاصم بہاری کی سوانح ’بندہ مومن کا ہاتھ‘ کتاب کے بغیر اس مضمون کو لکھنا میرے لئے ممکن نہیں ہوتا۔
مضمون نگار: فیاض احمد فیضی, مصنف,مترجم, سماجی کارکن اور پیشے سے طبیب ہیں.

A doctor by profession. Voluntary social services, translation and writing are my other inclinations.

Leave a reply:

Your email address will not be published.